امیہ چکرورتی (Amiya Chakravarty) جو ٹیگورین زمانے کے بعد کے دور کے سب سے بڑے عالم، محقق، ادبی نظریہ سازوں اور نقادوں میں سے ایک تھے، شاعر کے طور پر بھی مشہور و معروف تھے۔ امیہ چکرورتی (آمد، 1910ء، رخصت 1986ء) مغربی بنگال کے ہگلی ضلع کے زیرام پور میں پیدا ہوئے۔ 1921ء میں ہزاری باغ کے سینٹ کولمبس کالج سے بی اے اور 1926ء میں پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے مکمل کیا۔ ان کے والد دوجیش چندر چکرورتی آسام میں گوری پور اسٹیٹ کے دیوان تھے۔ امیہ کا پورا نام امیہ چندر چکرورتی ہے، لیکن وہ ادبی دنیا میں امیہ چکرورتی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی ماں انندیتا دیوی ایک مشہور تانیثی یا نسوانی مصنفہ تھیں۔ ہزاری باغ کے سینٹ کولمبس کالج (یہ کالج آئرش مشنریوں کے زیرِ انتظام تھا) سے بی اے 1921ء، اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے 1926ء مکمل کرنے کے بعد امیہ چکرورتی نے 1924ء سے 1933ء تک رابندر ناتھ ٹیگور کے ادبی سیکرٹری رہے۔ وہ اس عرصے میں رابند ناتھ ٹیگور کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے تھے اور قومی اور بین الاقوامی سیاسی واقعات کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے تھےان کی ادبی تصانیف ذیل میں دی جاتی ہیں: کبیتابلی (1925ء)، اپوہار (1927ء)، خسور (1938ء)، ایک مٹھو (1939ء)، متیر دیال (1942ء)، ایوگیان بسونتا (1943ء)، پاراپار (1953ء)، پالابادول (1955ء)، گھرے فرار دین (1961ء)، ہرانو آرکڈ (1966ء)، پشپتو امیج (1967ء)، امرابتی (1972ء)، انیشش (1976ء)، ناتون کبیتا (1987ء)، سمپرٹک (1963ء) اس کے علاوہ انہوں نے انگریزی میں بھی کئی کتب لکھی ہیں۔ امیہ چکرورتی نے اپنی زندگی میں اندرون و بیرونِ ملک بڑا اعزاز حاصل کیا۔ امن قایم کرنے کی کوششوں کے لیے، اس نے البرٹ شوئزر میڈل (1961ء) اور واتومول فاؤنڈیشن ایوارڈ (1967ء) حاصل کیا۔ وہ جنیوا میں عالمی امن کانفرنس میں مدعو مہمان تھے۔ ادب کے لیے انہوں نے یونیسکو ایوارڈ اور اکیڈمی ایوارڈ (1960ء)، اور رابندر بھارتی یونیورسٹی سے ڈی لِٹ حاصل کیا۔ وشو بھارتی یونیورسٹی نے انہیں دیش کوٹم (1963ء) کے خطاب سے نوازا۔ 1970ء میں ہندوستانی حکومت نے انہیں ’’پدم بھوشن‘‘ سے نوازا۔ امیہ چکرورتی کا انتقال 12 جون 1986ء کو شانتی نکیتن (مغربی بنگال، بھارت) میں ہوا۔